حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نجف اشرف کے امام جمعہ حجت الاسلام والمسلمین سید صدرالدین قبانچی نے حسینیۂ اعظم فاطمیہ نجف اشرف میں نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران عراق کے داخلی معاملات، علاقائی صورت حال اور عالمی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے عراقی حکومت کے بعض اقدامات پر تنقید کی۔
سعودی عرب کے دفاع سے پہلے یمن پر بمباری کی مذمت کی جائے
نجف اشرف کے امام جمعہ نے علاقائی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے عراقی حکومت کی جانب سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر یمنی انصار اللہ کے حملوں کی مذمت کا حوالہ دیا اور کہا: ہم مسلمانوں کی مسلمانوں کے ساتھ جنگ کو ہرگز قبول نہیں کرتے، لیکن ضروری ہے کہ اس سے پہلے یمنیوں پر ہونے والی مسلسل بمباری اور اس اتحاد کی مذمت کی جائے جس کے لیے امریکہ کی قیادت میں سعودی عرب نے اسرائیل، پاکستان اور ترکی کی شرکت کے ساتھ یمن کی انصار اللہ کو کچلنے کی غرض سے آواز اٹھائی ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ظلم کی ابتدا کرنے والا زیادہ ظالم ہوتا ہے۔ یمنیوں کے خلاف جارحیت پر خاموشی اختیار کرنا، جب کہ ریاض اور دمام کے ہوائی اڈوں پر حملوں کی فوری مذمت کی جائے، ایک عجیب طرزِ عمل ہے۔
غزہ، لبنان اور شام پر بمباری کی مذمت ضروری ہے
حجت الاسلام والمسلمین سید صدرالدین قبانچی نے غزہ، لبنان اور شام کی صورت حال پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا: ہمارے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے غزہ اور وہاں کے عوام پر جاری بمباری، جنوبی لبنان پر حملوں اور شام پر ہونے والی بمباری کی مذمت کریں۔
انہوں نے مزید کہا: نیتن یاہو نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ شام اور لبنان کے جن علاقوں پر حال ہی میں قبضہ کیا گیا ہے، وہاں سے اسرائیل پیچھے نہیں ہٹے گا۔ یہ تمام اقدامات عرب دنیا کی خاموشی اور کسی مذمت کے بغیر جاری ہیں۔
اضافی وزارتوں اور نائب عہدوں کے قیام پر تنقید
حجت الاسلام والمسلمین سید صدرالدین قبانچی نے خطبۂ جمعہ کے آغاز میں وزرا کے انتخاب پر ووٹنگ کے بعد کابینہ کی تکمیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ڈیجیٹل معیشت، سیاحت اور امورِ مملکت کے نام سے تین اضافی وزارتوں کے قیام کے علاوہ وزرا کی کونسل کے سربراہ کے لیے چار نائب عہدے بھی قائم کیے گئے ہیں، حالانکہ عراق اس وقت مالی بحران سے دوچار ہے اور دینی مرجعیت متعدد مواقع پر قومی خزانے کے وسائل ضائع نہ کرنے پر زور دے چکی ہے۔
انہوں نے کہا: ان اضافی وزارتوں اور نائب عہدوں کا قیام حکومت پر مزید مالی بوجھ ڈالے گا، جب کہ ان کے لیے کوئی حقیقی جواز موجود نہیں۔
آذربائیجان میں حجاب پر پابندی اسلامی اقدار کے منافی ہے
نجف اشرف کے امام جمعہ نے عالمی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے آذربائیجان کے تعلیمی اداروں میں طالبات اور خواتین اساتذہ کے حجاب پر پابندی کی مذمت کی۔
انہوں نے کہا: آذربائیجان میں مسلمانوں کی آبادی 95 فیصد ہے، اس کے باوجود حکومت نے ایسا فیصلہ کیا اور اس پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کیے، جن کے نتیجے میں لاکھوں طالبات اور اساتذہ کو تعلیمی اداروں سے نکال دیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ خواتین کے حقوق کہاں ہیں؟ شخصی آزادی کہاں ہے؟ جس جمہوریت پر فخر کیا جاتا ہے، وہ کہاں ہے؟ جمہوریت ایک جھوٹے نعرے میں تبدیل ہو چکی ہے، جسے دین کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں ہیں؟
عراقی حکومت سے آذربائیجان کے مسلمانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا مطالبہ
حجت الاسلام والمسلمین سید صدرالدین قبانچی نے عراقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ آذربائیجان میں حجاب پر پابندی کی مذمت کرے اور وہاں کے عوام، بالخصوص مسلمان خاندانوں، مردوں اور خواتین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرے۔
انہوں نے مزید کہا: یہ مسئلہ محض مقامی یا قومی معاملہ نہیں بلکہ ہماری اسلامی اقدار پر حملہ ہے۔ جو شخص مسلمانوں کے امور کی پروا نہیں کرتا، وہ ان میں سے نہیں ہے۔










آپ کا تبصرہ